EPAPER
Updated: January 05, 2022, 8:58 AM IST | haridwar
ایف آئی آر میںکلیدی ملزم یتی نرسمہا نند سمیت ۱۰؍ افراد کے نام شامل، بعد ازاں یہ معاملہ دہرہ دون کے سٹی پولیس اسٹیشن کو منتقل کردیا گیا ، جہاں پہلا معاملہ درج تھا
مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے کے الزام میںسنگھو ساگر اور یتی نرسمہانند سمیت ۱۰؍ ملزمین کےخلاف معاملہ درج کیاگیا ہے۔ یہ اس سلسلے کی دوسری ایف آئی آر ہے۔ خیال رہے کہ پہلی ایف آئی آر میں بھی نرسمہا نند کا نام ہے تاہم اسے بعد میں شامل کیا گیا تھا۔
اتراکھنڈ کے شہرجوالاپور کے سب انسپکٹر نریش شرما نے بتایا کہ اسی علاقے کے رہنے والے ندیم علی کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی تھی جس کی بنیاد پر اتوار کو ہری دوار کے جوالا پور پولیس اسٹیشن میں دوسری ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں اسے سٹی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا تھا کیونکہ یہ معاملہ وہیں سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی ایف آئی آر بھی وہیں درج ہوئی تھی۔
پولیس کی اطلاعات کے مطابق دھرم سنسد کے منتظمین میں شامل یتی نرسمہانند، جتیندر نارائن تیاگی (وسیم رضوی)، سنگھو ساگر، دھرم داس، پرمانند، سادھوی اناپورنا، آنند سوروپ، اشونی اپادھیائے، سریش چوان اور پربودھانند گری کو دوسری ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے اتوار کو ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت پر۱۶؍ سے۱۹؍ دسمبر ۲۰۲۱ء تک ہری دوار میں منعقدہ’دھرم سنسد‘ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا زبردست دباؤ ہے۔ اسی کے تحت مقامی مسلمانوں کی جانب سے جمعہ اور سنیچر کو دہرادون اور ہری دوار میںاحتجاجی جلوس بھی نکالے گئے تھے۔اس جلوس میں مسلمانوں کے خلاف تشدد بھڑکانے والی اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس سے قبل ملک کی اہم شخصیات نے اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے نام ایک خط لکھ کر اس واقعے کے تمام ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ ابھی ایک دن قبل معاملے کی تفتیش کیلئے حکومت نے ایک ایس آئی ٹی بھی تشکیل دی ہے، جس کے تعلق سے کہاجا تا ہے کہ حکومت نے یہ کام بادل نخواستہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت پر ملزمین کے ساتھ نرم رویہ اختیارکرنے کا بھی الزام ہے۔ دوسری طرف اس حوالے سے دھرم سنسد کے نام پر اشتعال انگیزی کرنے والے اب ریاستی حکومت کو ہی نشانہ بنارہے ہیں۔ اس معاملے کا کلیدی ملزم یتی نرسمہانند نے کہا کہ حکومت دباؤ میں آکر اس طرح کے فیصلے کر رہی ہے۔ اس نے مسلمانوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ میں بھی ایک مخصوص طبقے کا غلبہ نظر آنے لگا ہے، ایک دن قبل یہاں ہیڈ کوارٹرز پر جو گھیراؤ کیا گیا ہے، اسی کاڈر سرکار کو ستا رہا ہے جس کی وجہ سے جانچ کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے ۔