EPAPER
Updated: November 17, 2020, 9:02 AM IST | Agency | Islamabad
اسلام آباد انتظامیہ نے پیر کو بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا تاکہ فرانس میں اسلامی پیغمبر کے توہین رسالت سے وابستہ اشاعت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حامیوں کے یہاں مجوزہ مظاہرہ کو روکا جاسکے۔
اسلام آباد انتظامیہ نے پیر کو بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا تاکہ فرانس میں اسلامی پیغمبر کے توہین رسالت سے وابستہ اشاعت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حامیوں کے یہاں مجوزہ مظاہرہ کو روکا جاسکے۔
اس سے پہلے اتوار کو راول پندی کے لیاقت باغ میں مشتعل مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے مابین تصادم ہوئے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد میں کسی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کیلئے پولیس، رینجرس اینڈ فرنٹیئر کور کے تین ہزار سے زیادہ سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔
اسی تنظیم اور اس کے معاونین کی راول پنڈی میں اتوار کو منعقدہ ریلی میں تقریباً پانچ ہزار لوگ جمع ہوئے تھے۔ پیر کو تقریباً ایک ہزار مظاہرین اسلام آباد میں داخلہ میں کوروکنے کے لئے کی گئی سڑک جام کے نزدیک جمع ہوئے تھے۔
حکام نے مظاہرہ کے دوران تشدد بھڑکنے کے اندیشہ سے انکار نہیں کیا ہے۔ اتوار کو جاری نوٹفکیشن میں کہا گیا کہ اندیشہ ہے کہ ریلی میں شامل ہونے والے لوگ پرتشدد ہوسکتے ہیں اور ضلع انتظامیہ کے ساتھ کئے اپنے وعدوں کو توڑ کر فرانسیسی سفارتخانہ کی طرف جاسکتے ہیں۔
مظاہرین حکومت سے فرانس کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات کو ختم کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔