EPAPER
Updated: September 13, 2021, 10:58 AM IST | Agency | Mumbai
مشورہ دیا کہ جو لیڈر جمہوری قدروں پر یقین رکھتے ہیں وہ تنقید کرنے کے بجائےکانگریس قیادت کے ساتھ متحد ہوں
مہاراشٹر سرکار میں شامل کانگریس اور این سی پی میں ان دنوں لفظی جنگ جیسی کیفیت محسوس ہو رہی ہے۔ شرد پوار کے اس تبصرہ پر کہ کانگریس کی مثال اُس زمیندار جیسی ہے جس کی زمین تو چھن گئی مگر وہ اسے ذہنی طورپر قبول نہیں کرسکا، کانگریس لیڈر اور ریاستی وزیر بالاصاحب تھورات نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ جو لیڈر آئینی اور جمہوری قدروں پر یقین رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ کانگریس پر تنقید کرنے کے بجائے اس کے چھاتے تلے متحد ہوجائیں۔ ’زمیندار‘ والے شرد پوار کے تبصرہ پر عدم اتفاق کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کانگریس نے کبھی ’زمینداری‘ نہیں کی ہے۔ تھورات کے مطابق’’کانگریس صرف ایک سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ ملک کی جمہوری اور آئینی قدروں کی علامت بھی ہے۔‘‘ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اپنے پیسوں کی طاقت کا استعمال کر کے کانگریس کو بدنام کررہی ہے۔ یاد رہے کہ شرد پوار نے جمعرات کو ایک مراٹھی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کانگریس کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہاتھا کہ کانگریس کے لیڈروںکو اب اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ ان کی پارٹی کا وجود ’’کشمیر سے کنیا کماری تک‘‘ نہیں رہ گیا جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ شرد پوار کے مطابق’’ایک وقت تھا جب کانگریس کشمیر سے کنیا کماری تک تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس اگر اس حقیقت کو تسلیم کرلے تو علاقائی پارٹیوں سے اس کی قربت بڑھ سکتی ہے۔‘‘ اس سوال پر کہ کانگریس اپوزیشن کے ممکنہ اتحاد کے لیڈر کے طور پر ممتا بنرجی کو تسلیم نہیں کرنا چاہتی بلکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس راہل گاندھی اور سونیا گاندھی ہیں، شرد پوار نے زمینداروں والی ذہنیت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ لینڈسیلنگ ایکٹ کے بعد ان کی زمینیں تو چھن گئیں مگر حویلیاں رہ گئیں۔اب ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ حویلی کی دیکھ ریکھ کرسکیں ۔